23 نومبر 2012 - 03:24

حماس کے ایک سینئر راہنما نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران نے صہیونی حملے کی مزاحمت میں ہمارا خاص طور پر ساتھ دیا چنانچہ ہم اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے اور وہ اس کے بعد کسی کے لئے خطرات کھڑے نہيں کرسکتا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حماس کے سینئر لیڈر "خلیل ابو لیلی' نے اسلامی جمہوریہ ایران کا بطور خاص شکریہ ادا کیا ہے کیونکہ ان کے بقول اسلامی جمہوریہ ایران سے صہیونی ریاست کے خلاف مزاحمت میں مزاحمت تحریکوں کا خاص طور پر ساتھ دیا ہے۔
انھوں نے جمعرات کے روز العالم کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ہم حالیہ ایام میں ایران کی مالی امداد سے فراہم کردہ ہتھیار استعمال کرکے صہیونی ریاست کے خلاف لڑے اور ہمیں امید ہے کہ عرب اور دوسرے اسلامی ممالک بھی ہماری حمایت میں ایران کا سا کردار ادا کریں۔
انھوں نے کہا: ہماری مزاحمت ملت فلسطین کے تمام اہداف کے حصول تک جاری رہے گی کیونکہ ہم صہیونی ریاست کی طرف عدم جارحیت کی ضمانت پر کسی صورت میں بھی اعتماد نہیں کرسکتے اور وہ کسی وقت بھی فلسطینیوں پر دوبارہ حملہ کرسکتی ہے۔
انھوں نے کہا: اسرائیل مزاحمت تنظیموں کے میزائل پاور سے بری طرح فکرمند ہوچکا تھا جس کی بنا پر اس نے جنگ بندی کا اعلان کیا اور صہیونیوں کی صورت حال ذلت آمیز تھی اور وہ اپنے عوام کو دیئے ہوا کوئی بھی وعدہ نہ نبھاسکا اور نتیجے کے طور پر غزہ نے فتح حاصل کی۔ 
انھوں نے کہا کہ جنگ کی فوجی قیادت بہت اچھی طرح انجام پائی صہیونی دشمن گھبرا گیا اور کوئی مقصد حال کئے بغیر جنگ بندی پر آمادہ ہوا اور آج فلسطینیوں کی کامیابی ایک مکمل اور واضح کامیابی ہے جس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ صہیونی ریاست روبزوال ہوچکی ہے اور آج کے بعد یہ ریاست مزاحمت تحریکوں کے لئے کوئی خطرہ پیدا نہیں کرسکتی کیونکہ فلسطینیوں نے اس پر کاری ضربیں لگائی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ صہیونی ریاست کی الٹی گنتی عرصے سے شروع ہوچکی ہے اور اللہ کی مدد سے یہ ریاست طویل عرصے تک قائم نہیں رہ سکے گی اور ان شاء اللہ اگلا عشرہ اس ریاست کے مکمل خاتمے کا عشرہ ہوگا اور ہم غاصب ریاست ـ جس نے 65 برسوں سے فلسطین پر قبضہ جما رکھا ہے ـ کی موت کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110